Wednesday, November 12, 2014

PROPHET SULEMAN ASKED TO JIN WHERE FOUND THE IBLEES TRU STORY PLZ READ IT


حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک عفریت جن سے فرمایا. تو تباہ ھوجاۓ. یہ بتا کہ ابلیس کہاں رھتا ھے؟ اس نے عرض کیا... اے اللہ کے نبی! آپ کو اس کے متعلق کوئ حکم ملا ھے؟ فرمایا. حکم تو نھیں ملا لیکن وہ رھتا کہاں ھے. تو اس نےعرض کیا. اے اللہ کے نبی!. میں آپ کو اس کے پاس لے چلتا ھوں.

چنانچہ وہ عفریت آپ علیہ السلام کے آگے آگے دوڑ رھا تھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام اس کے ساتھ تھے.

حتی کہ آپ علیہ السلام اچانک سمندر میں جا پہنچے اور ابلیس کو پانی کی سطح پر بیٹھے دیکھا... جب اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دیکھا تو ڈر کے مارے کانپنے لگا پھر کھڑا ھوا آپ علیہ السلام سے ملاقات کی اور کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام. آپ علیہ السلام کو میرے متعلق کوئ حکم ملا ھے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے فرمایا. نھیں تمھارے پاس صرف اس لیے آیا ھوں کہ تم سے یہ پوچھوں کہ تمھارا سب سے زیادہ پسندیدہ کام کون سا ھے؟
جو اللہ تبارک وتعالی کے نزدیک سب سے زیادہ برا ھو...؟

ابلیس نے کہا قسم خدا کی اگر آپ میرے پاس چل کر نہ آۓ ھوتے تو میں کبھی بھی آپ کو اس کا نہ بتلاتا...

اللہ سبحانہ وتقدس کے نزدیک سب سے برا یہ ھے کہ...
"مرد مرد سے منہ کالا کرے اور عورت عورت سے" (جس قبیح فعل کو جنس پرستی بھی کہا جاتا ھے)

(تحریم الفواحش)

یہ بات قابل غور ھے کہ جتنے بھی کبیرہ گناہ ھیں ان کو براہ راست ممنوع قرار دیا گیا ھے،
لیکن زنا واحد ایسا گناہ ھے جس کے متعلق ارشاد ربانی ھے;

"ولاتقربوا الزنا"
کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ _

یعنی زنا کرنا ایک ایسا گناہ ھے جس کے قریب جانے سے بھی روکا گیا ھے،
اور زنا کے قریب جانے سے مراد نظر بازی کرنا، نامحرم کو بوسہ دینا اور چھونا وغیرہ یہ سب زنا کے دواعی ھیں،
اور یہ سب حرام اور زنا کہ حکم میں ھیں،

تو جب زنا کے قریب کرنے والی تمام چیزیں حرام ھیں اور ان سے دور رھنے کا حکم دیا گیا ھے تو ذرا سوچیے خود زنا کرنا کتنا بڑا گناہ ھوگا
اور یہ قباحت اور زذالت اس وقت اور کئ درجہ بڑھ جاتی ھے جب اس فعل کا ارتکاب اپنے ھی جنس سے کیا جاۓ..

Labels:

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home