FARMAN E RASOOL (S .A W) FAQEER MUJH SY HY OR FAQR MERA FAKHER HY
فقیر کون ہے
میرے آقا سید الکونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے:
(الفقر فخری والفقر منی فقر)فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے
آج کے اس دورِ پُرفتن میں عجیب کشمکش کا عالم ہے فقرا سے یہ دنیا کبھی خالی نہیں رہتی مگر علم و آگہی کافقدان اور جہالت اس قدر عروج پر ہے کہ عام انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس دور میں ایسی ہستیاں اب نہیں رہیں لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کی جب انسان اپنے یقین کی دولت کھو بیٹھتا ہے تو وہ بے راہ روی کاشکار ہو جاتا ہے۔ اور اسکے ذمہ دار وہ لوگ بھی ہیں کہ جنہوں نے فقیری کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، خود تو گمراہ ہیں ہی ساتھ عوام الناس کی گمراہی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔
اعلٰی درجے کے مراتب حاصل کر لینے کا نام فقیری نہیں ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر فقیری کیا ہے؟
جان لیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ مندرجہ بالا حدیثِ مبارکہ کا اگر مفہوم سمجھ میں آجائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ فقیری تو دراصل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہِ حسنہ کا نام ہے۔ جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے کسے نے دریافت کیا کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کسیے تھے تو آپ نے نہایت سادہ مگر مدلل جواب دیا کہ کیا تم نے قران نہیں پڑھا، قران ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق تھا۔
محسنِ انسانیت، سیدالکونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کی خدمت اور مخلوقِ خدا سے محبت کا جو درس اپنے کردار و عمل سے ہمیں عطا فرما دیا وہی ہمارے لئے فقیری و درویشی کی کسوٹی ہے۔
میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ساری زندگی مسکینی میں گزار دی وگرنہ اللہ تعالٰی نے تو فرمایا کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر تم چاہو تو تمہارے لئے پہاڑوں کو سونا بنا دوں اور پہاڑ تمہارے ساتھ ساتھ چلیں تاکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہیں اپنی ضرورت پوری کر سکیں لیکن میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پسند نہ فرمایا اور 63 سال ایک عام انسان کی طرح زندگی گزار کر ہمیں یہ بتا گئے کہ اپنی ذات کی نفی ہی اصل فقیری ہے۔
اگر کسی نے اس کو عملی طور پر اپنایا تو وہ اللہ تعالٰی کی برگزیدہ ہستیاں ہیں جن کے اعمال و کردار میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان نفوسِ قدسیہ نے ہمیشہ اپنے آپ کو بارگاہِ ایزدی ایک کمترین مخلوق کی حیثیت سے پیش کیا۔ ان پاک لوگوں نے ساری زندگی مخلوقِ خدا کی خدمت اور محبت بانٹتے ہوئے گزار دی۔ اللہ تعالی نے اُن کو ولایت کے اعلٰی درجات عطا فرمائے مگر انہوں نے اپنے تصرفات کو ترک کردیا، اور رضائے الہی میں گم ہو کر عام انسانوں کی طرح زندگی گزار دی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اولیائے کرام قراں پاک کی تفسیر ہیں بس ان کے کردار کو پڑھیں، ان کی صحبت اختیار کریں۔
مولانا روم ؒ رحمتہ اللہ علیہ اسی لئے فرما گئے۔
یک زمانہ صحبتِ با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعتِ بے ریا
اللہ تعالٰی ہمیں اپنے اولیائے کرام کی محبت و احترام عطا فرمائے۔
اٰمین یا رب العلمین
میرے آقا سید الکونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے:
(الفقر فخری والفقر منی فقر)فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے
آج کے اس دورِ پُرفتن میں عجیب کشمکش کا عالم ہے فقرا سے یہ دنیا کبھی خالی نہیں رہتی مگر علم و آگہی کافقدان اور جہالت اس قدر عروج پر ہے کہ عام انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس دور میں ایسی ہستیاں اب نہیں رہیں لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کی جب انسان اپنے یقین کی دولت کھو بیٹھتا ہے تو وہ بے راہ روی کاشکار ہو جاتا ہے۔ اور اسکے ذمہ دار وہ لوگ بھی ہیں کہ جنہوں نے فقیری کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، خود تو گمراہ ہیں ہی ساتھ عوام الناس کی گمراہی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔
اعلٰی درجے کے مراتب حاصل کر لینے کا نام فقیری نہیں ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر فقیری کیا ہے؟
جان لیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ مندرجہ بالا حدیثِ مبارکہ کا اگر مفہوم سمجھ میں آجائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ فقیری تو دراصل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہِ حسنہ کا نام ہے۔ جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے کسے نے دریافت کیا کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کسیے تھے تو آپ نے نہایت سادہ مگر مدلل جواب دیا کہ کیا تم نے قران نہیں پڑھا، قران ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق تھا۔
محسنِ انسانیت، سیدالکونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کی خدمت اور مخلوقِ خدا سے محبت کا جو درس اپنے کردار و عمل سے ہمیں عطا فرما دیا وہی ہمارے لئے فقیری و درویشی کی کسوٹی ہے۔
میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ساری زندگی مسکینی میں گزار دی وگرنہ اللہ تعالٰی نے تو فرمایا کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر تم چاہو تو تمہارے لئے پہاڑوں کو سونا بنا دوں اور پہاڑ تمہارے ساتھ ساتھ چلیں تاکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہیں اپنی ضرورت پوری کر سکیں لیکن میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پسند نہ فرمایا اور 63 سال ایک عام انسان کی طرح زندگی گزار کر ہمیں یہ بتا گئے کہ اپنی ذات کی نفی ہی اصل فقیری ہے۔
اگر کسی نے اس کو عملی طور پر اپنایا تو وہ اللہ تعالٰی کی برگزیدہ ہستیاں ہیں جن کے اعمال و کردار میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان نفوسِ قدسیہ نے ہمیشہ اپنے آپ کو بارگاہِ ایزدی ایک کمترین مخلوق کی حیثیت سے پیش کیا۔ ان پاک لوگوں نے ساری زندگی مخلوقِ خدا کی خدمت اور محبت بانٹتے ہوئے گزار دی۔ اللہ تعالی نے اُن کو ولایت کے اعلٰی درجات عطا فرمائے مگر انہوں نے اپنے تصرفات کو ترک کردیا، اور رضائے الہی میں گم ہو کر عام انسانوں کی طرح زندگی گزار دی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اولیائے کرام قراں پاک کی تفسیر ہیں بس ان کے کردار کو پڑھیں، ان کی صحبت اختیار کریں۔
مولانا روم ؒ رحمتہ اللہ علیہ اسی لئے فرما گئے۔
یک زمانہ صحبتِ با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعتِ بے ریا
اللہ تعالٰی ہمیں اپنے اولیائے کرام کی محبت و احترام عطا فرمائے۔
اٰمین یا رب العلمین
Labels: FARMAN E RASOOL (S .A W) FAQEER MUJH SY HY OR FAQR MERA FAKHER HY


1 Comments:
chung cư 89 phùng hưng
tiếng anh giao tiếp cho trẻ em
chung cư newskyline văn quán
hateco hoàng mai
chung cư hà nội
Đoạn Vân rất thoải mái nửa ngồi nửa nằm trên ghế ở phòng nghị sự, hai cô
thánh ma đạo thị nữ Liên Na và Vân Vân rất khéo léo xoa bóp gáy, lưng
cho Đoạn Vân!
- Thiếu gia, gia tộc đã thu phục những bộ lạc Thú Nhân phía bắc rồi! Bây
giờ mười mấy vạn Thú Nhân ở đó đều đã dời về Á Cương. Hơn nữa tộc trưởng
của tộc người khổng lồ cũng đã đông ý cân nhắc chuyện thần phục chúng ta!
Ước Hàn cung kính nói.
- Ừ, tốt lắm! Thú Nhân quả thật là thức thời. Đã an bài mọi việc cho họ
chưa?
Đoạn Vân khẽ gật đầu vẻ hài lòng.
- Thiếu gia, Thú Nhân vừa thu phục đều muốn được những Kiếm Thần Thú
Nhân của gia tộc lãnh đạo. Theo họ, Thú Nhân Kiếm Thần là một đại kỳ
tích của Thú Nhân tộc, có thể nói là thần của Thú Nhân, do đó bọn họ
đương nhiên phải đầu phục! Ta dựa theo mấy phương pháp của thiếu gia
dịch vụ hoàn thuế
dịch vụ kế toán thuế
dịch vụ quyết toán thuế
khoá học kế toán thuế
trung tâm kế toán
dịch vụ báo cáo thuế hàng tháng
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home